QURAN S2-A41 سورہ البقرہ

 


Surat No. 2 Ayat NO. 41 

سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :57 تھوڑی قیمت سے مراد وہ دنیوی فائدے ہیں جن کی خاطر یہ لوگ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو رد کر رہے تھے ۔ حق فروشی کے معاوضے میں خواہ انسان دنیا بھر کی دولت لے لے ، بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے ، کیونکہ حق یقیناً اس سے گراں تر چیز ہے ۔


ISLAM360 



AI

قرآن کی اس آیت (البقرہ: 41) کی تفسیر میں کئی اہم نکات بیان کیے گئے ہیں:


قرآن پر ایمان لانے کا حکم: اس آیت میں بنی اسرائیل کو خاص طور پر حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لائیں جو ان کی اپنی کتابوں، جیسے تورات، کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔


سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بنو: انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس کتاب کا انکار کرنے والوں میں پہل نہ کریں، کیونکہ وہ پہلے سے ہی آخری نبی ﷺ کے منتظر تھے۔ ان کا انکار دوسروں کے لیے مثال بن سکتا تھا، جس کا گناہ بھی ان پر ہوتا۔


دنیاوی فائدے کے لیے آیات نہ بیچو: اس میں علماء کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ وہ معمولی دنیاوی فائدے، جیسے عہدے یا مال، کے لیے اللہ کی آیات کو نہ چھپائیں یا ان میں تبدیلی نہ کریں۔ یہاں "تھوڑی قیمت" سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی ہر چیز اللہ کے کلام کے مقابلے میں بے قیمت ہے۔


صرف اللہ کا خوف: آخر میں حکم دیا گیا ہے کہ کسی اور چیز، جیسے لوگوں کی ناراضگی یا دنیاوی نقصان، کا خوف نہ کرو بلکہ صرف اللہ سے ڈرو اور اس کے احکامات پر عمل کرو۔


خلاصہ یہ ہے کہ یہ آیت بنی اسرائیل کو اور ان کے ذریعے تمام انسانوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ قرآن کو سچے دل سے قبول کریں، دنیاوی لالچ میں آکر حق کو نہ چھپائیں، اور صرف اللہ کا خوف دل میں رکھیں۔


۔۔۔



تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک