اشاعتیں

فروری 11, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

QURAN S2-A39 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 39  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :54 آیات جمع ہے آیت کی ۔ آیت کے اصل معنی اس نشانی یا علامت کے ہیں جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے ۔ قرآن میں یہ لفظ چار مختلف معنوں میں آیا ہے ۔ کہیں اس سے مراد محض علامت یا نشانی ہی ہے ۔ کہیں آثارِ کائنات کو اللہ کی آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ مظاہرِ قدرت میں سے ہر چیز اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس ظاہری پردے کے پیچھے مستور ہے ۔ کہیں ان معجزات کو آیات کہا گیا ہے جو انبیاء علیہم السّلام لے کر آتے تھے ، کیونکہ یہ معجزے دراصل اس بات کی علامت ہوتے تھے کہ یہ لوگ فرمانروائے کائنات کے نمائندے ہیں ۔ کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ، بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے جو کتاب بھی آتی ہے ، اس کے محض مضامین ہی میں نہیں ، اس کے الفاظ اور اندازِ بیان اور طرزِ عبادت تک میں اس کے جلیل القدر مصنّف کی شخصیت کے آثار نمایاں طور پر محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہر جگہ عبارت کے سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں ’’ آیت “ کا لفظ کس معنی میں آیا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر ...