اشاعتیں

مارچ 3, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

QURAN S2-A56 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 56  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :71 یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے تھے ، تو آپ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور فرقان عطا کی ، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا ۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور انہیں سزا دی گئی ۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ : ” انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا اس کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبوترا سا تھا ، جو آسمان کی مانند شفاف تھا ۔ اور اس نے بنی اسرائیل کے شرفا پر اپنا ہاتھ نہ بڑھایا ۔ سو انہوں نے خدا کو دیکھا اور کھایا اور پیا ۔“ ( خرُوج ، باب 24 ، آیت 11-10 ) لطْف یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا کہ مجھے اپنا جلال دکھا دے ، تو اس نے فرمایا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکت...