RWM23032025 Health Tibb Unani Hakeem Saeed
یہ نظم آج سے 35 سال قبل حکیم سعید صاحب نے کہی تھی ، جہاں تک کام چلتا ہو *غذا* سے وہاں تک چاہیے بچنا *دوا* سے اگر *خوں* کم بنے، *بلغم* زیادہ تو کھا *گاجر، چنے ، شلغم* زیادہ *جگر کے بل* پہ ہے انسان جیتا اگر ضعف جگر ہے کھا *پپیتا* *جگر* میں ہو اگر *گرمی* کا احساس *مربّہ آملہ* کھا یا *انناس* اگر ہوتی ہے *معدہ* میں گرانی تو پی لی *سونف یا ادرک* کا پانی تھکن سے ہوں اگر *عضلات ڈھیلے* تو فوراََ *دودھ گرما گرم* پی لے جو دکھتا ہو *گلا نزلے* کے مارے تو کر *نمکین* پانی کے *غرارے* اگر ہو درد سے *دانتوں* کے بے کل تو انگلی سے *مسوڑوں* پر *نمک* مَل جو *طاقت* میں *کمی* ہوتی ہو محسوس تو *مصری کی ڈلی ملتان* کی چوس شفا چاہیے اگر *کھانسی* سے جلدی تو پی لے *دودھ میں تھوڑی سی ہلدی* اگر *کانوں* میں تکلیف ہووے تو *سرسوں* کا تیل پھائے سے نچوڑے اگر *آنکھوں* میں پڑ جاتے ہوں *جالے* تو *دکھنی مرچ گھی* کے ساتھ کھا لے *تپ دق* سے اگر چاہیے رہائی بدل پانی کے *گّنا چوس* بھائی *دمہ* میں یہ غذا بے شک ہے اچھی *کھٹائی* چھوڑ کھا دریا کی *مچھلی* اگر تجھ کو لگے *جاڑے* میں سردی تو استعمال کر *انڈے کی زردی* جو *بد ہضم...