اشاعتیں

QURAN S2-A29 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 29  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :34 سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے ، اس کا تعیّن مشکل ہے ۔ انسان ہر زمانے میں آسمان ، یا با لفاظِ دیگر ماورائے زمین کے متعلق اپنے مشاہدات یا قیاسات کے مطابق مختلف تصوّرات قائم کرتا رہا ہے ، جو برابر بدلتے رہے ہیں ۔ لہذا ان میں سے کسی تصوّر کو بنیاد قرار دے کر قرآن کے ان الفاظ کا مفہُوم متعین کرنا صحیح نہ ہو گا ۔ بس مجملاً اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ زمین سے ماوراء جس قدر کائنات ہے ، اسے اللہ نے سات محکم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے ، یا یہ کہ زمین اس کائنات کے جس حلقہ میں واقع ہے ، وہ سات طبقوں پر مشتمل ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :35 اس فقرے میں دو اہم حقیقتوں پر مُتنبّہ فرمایا گیا ہے ۔ ایک یہ کہ تم اس خدا کے مقابلے میں کفر و بغاوت کا رویّہ اختیار کرنے کی جُراٴت کیسے کرتے ہو جو تمہاری تمام حرکات سے باخبر ہے ، جس سے تمہاری کوئی حرکت چھپی نہیں رہ سکتی ۔ دوسرے یہ کہ جو خدا تمام حقائق کا عِلم رکھتا ہے ، جو درحقیقت علم کا سرچشمہ ہے ، اس سے منہ موڑ کر بجز اس کے کہ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکو اور کیا نتیجہ...

QURAN S2-A28 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360