QURAN S2-A50 سورہ البقرہ

 




ISLAM360 



AI




📖 سورۃ البقرہ – آیت 50 کی تفسیر


آیت:

وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ


ترجمہ:

“اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا، پھر تمہیں نجات دی اور فرعون والوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے غرق کر دیا۔”



---


🔎 شانِ نزول اور پس منظر


یہ آیت بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت یاد دلاتی ہے۔ جب وہ مصر میں فرعون کے ظلم و ستم کا شکار تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے انہیں نجات عطا فرمائی۔


جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے آیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں راستہ بن گیا اور بنی اسرائیل سلامتی سے گزر گئے، لیکن جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو پانی واپس آ گیا اور وہ سب غرق ہو گئے۔



---


✨ اہم نکاتِ تفسیر


1️⃣ “فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ”


اللہ تعالیٰ نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مفسرین کے مطابق پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔


2️⃣ “فَأَنْجَيْنَاكُمْ”


یہ اللہ کی خاص نصرت اور مدد تھی۔ کمزور اور مظلوم قوم کو طاقتور دشمن سے بچا لیا گیا۔


3️⃣ “وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ”


“آلِ فرعون” سے مراد فرعون اور اس کا لشکر ہے۔ یہ اللہ کی طرف سے ظالم کے لیے عبرتناک انجام تھا۔


4️⃣ “وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ”


تم اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ رہے تھے، تاکہ تمہارے دل میں یقین اور شکر پیدا ہو۔



---


🌿 حاصلِ سبق


اللہ تعالیٰ مظلوموں کی مدد فرماتا ہے۔


ظالم چاہے کتنا ہی طاقتور ہو، اللہ کے مقابلے میں بے بس ہے۔


نعمتوں کو یاد رکھنا اور شکر ادا کرنا ضروری ہے۔


مشکل حالات میں اللہ پر کامل بھروسہ رکھنا چاہیے۔




---



تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک