QURAN S2-A52 سورہ البقرہ
ISLAM360
AI...
📖 سورہ البقرہ – آیت 52 (2:52)
عربی:
ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُو۟نَ ۚ
اردو ترجمہ:
پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
English Translation (Meaning):
“Then We forgave you after that so perhaps you would be grateful.”
📌 وضاحت (مختصر مفہوم):
یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے، جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں گوسالے کی پوجا شروع کر دی تھی، پھر جب انہوں نے توبہ کی تو اللہ نے اپنے فضل و رحم سے انہیں بخش دیا، تاکہ وہ اس احسان پر شکر گزار بنیں۔
۔۔؟
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿
📖 تفسیر سورۃ البقرہ – آیت 52
آیت:
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
ترجمہ:
پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔
---
🔎 پس منظر (شانِ نزول)
یہ آیت قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کے واقعات کے ضمن میں نازل ہوئی۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے گئے تو ان کی غیر موجودگی میں بنی اسرائیل نے سامری کے بہکانے پر بچھڑے (گوسالے) کی پوجا شروع کر دی۔ یہ کھلا شرک تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اس عظیم گناہ کے باوجود انہیں فوراً ہلاک نہیں کیا بلکہ توبہ کا موقع دیا۔
---
📝 آیت کی تفصیلی تفسیر
1️⃣ "ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم" (پھر ہم نے تمہیں معاف کر دیا)
یہ اللہ تعالیٰ کی بے مثال رحمت کو ظاہر کرتا ہے۔
شرک بہت بڑا گناہ ہے، لیکن جب بنی اسرائیل نے سچی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف فرما دیا۔
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ:
اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔
سچی توبہ ہر بڑے گناہ کو مٹا سکتی ہے۔
---
2️⃣ "مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ" (اس کے بعد بھی)
یعنی اتنی بڑی نافرمانی کے بعد بھی۔
یہ الفاظ اللہ کے خاص فضل اور احسان کو ظاہر کرتے ہیں کہ اتنے بڑے جرم کے باوجود درگزر کیا گیا۔
---
3️⃣ "لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ" (تاکہ تم شکر کرو)
معافی کا مقصد یہ تھا کہ وہ ناشکری چھوڑ کر شکر گزار بنیں۔
شکر کے تین درجے ہوتے ہیں:
1. دل سے نعمت کا اعتراف
2. زبان سے حمد و ثناء
3. عمل سے اطاعت
اگر معافی کے بعد بھی بندہ ناشکری کرے تو وہ خود اپنا نقصان کرتا ہے۔
---
🌿 اہم نکات
✔ شرک بہت بڑا گناہ ہے مگر سچی توبہ سے معاف ہو سکتا ہے۔
✔ اللہ تعالیٰ بندوں کو بار بار موقع دیتا ہے۔
✔ نعمت اور معافی کا تقاضا شکر ہے۔
✔ بنی اسرائیل کے واقعات امتِ محمدیہ کے لیے نصیحت ہیں۔
---
📚 دیگر تفاسیر کی روشنی میں
تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ ان کی توبہ کی صورت یہ تھی کہ اللہ کے حکم سے انہوں نے سخت طریقے سے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کیا، پھر اللہ نے معاف فرمایا۔
تفسیر جلالین میں اس آیت کو اللہ کے فضلِ خاص کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔
---
۔۔؟🌸
.jpg)
تبصرے