QURAN S2-A46 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 46
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :61 یعنی جو شخص خدا کا فرماں بردار نہ ہو اور آخرت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو ، اس کے لیے تو نماز کی پابندی ایک ایسی مصیبت ہے ، جسے وہ کبھی گوارا ہی نہیں کر سکتا ۔ مگر جو برضا و رغبت خدا کے آگے سرِ اطاعت خم کر چکا ہو اور جسے یہ خیال ہو کہ کبھی مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا بھی ہے ، اس کے لیے نماز ادا کرنا نہیں ، بلکہ نماز کا چھوڑنا مشکل ہے ۔
ISLAM360
AI...
🌿
آپ کے لنک کے مطابق یہاں Surah Al-Baqarah کی آیت 46 کی تفصیلی وضاحت پیش کی جا رہی ہے۔
---
📖 آیت (2:46)
الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
📌 ترجمہ:
“جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ کہ انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔”
---
🔎 سیاق و سباق (Context)
یہ آیت اس سے پہلے والی آیت (2:45) سے مربوط ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
> “صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، اور بے شک یہ (نماز) بہت بھاری ہے مگر خشوع کرنے والوں پر نہیں۔”
پھر آیت 46 میں بتایا کہ وہ خشوع والے لوگ کون ہیں؟
یعنی وہ لوگ جو آخرت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔
---
🌿 اہم نکات کی وضاحت
1️⃣ "يَظُنُّونَ" کا مفہوم
عربی میں “ظن” کبھی شک کے لیے آتا ہے اور کبھی قوی یقین کے لیے۔
یہاں اس سے مراد پختہ یقین ہے — ایسا یقین جو انسان کے عمل میں ظاہر ہو۔
🔹 یعنی وہ لوگ جو دل سے یقین رکھتے ہیں کہ:
ہمیں ایک دن اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہے
ہمارے اعمال کا حساب ہوگا
زندگی عارضی ہے، اصل زندگی آخرت ہے
---
2️⃣ ملاقاتِ رب کا تصور
“مُلَاقُوا رَبِّهِمْ”
اس کا مطلب ہے:
قیامت کے دن اللہ کے حضور پیشی
حساب و کتاب
عدل و انصاف
جزا و سزا
یہ یقین انسان کے دل میں خشوع، عاجزی اور ذمہ داری پیدا کرتا ہے۔
---
3️⃣ “إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” کا مطلب
یہ جملہ ہمیں یاد دلاتا ہے:
ہم اللہ کے ہیں
ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
دنیا کا اقتدار، مال، شہرت — سب عارضی ہے
یہی سوچ انسان کو دنیا کی غفلت سے بچاتی ہے۔
---
🕌 نماز کیوں بھاری نہیں رہتی؟
جب بندے کو یقین ہو کہ:
میں اپنے رب سے ملنے والا ہوں
وہ میرے ہر عمل کو دیکھ رہا ہے
نماز اس سے ملاقات کا ذریعہ ہے
تو نماز بوجھ نہیں رہتی بلکہ سکون اور محبت بن جاتی ہے۔
---
📚 مفسرین کی آراء
✦ امام ابن کثیرؒ
انہوں نے فرمایا کہ یہاں “ظن” کا مطلب یقین کامل ہے، اور یہی یقین نماز کو آسان بنا دیتا ہے۔
✦ امام قرطبیؒ
انہوں نے لکھا کہ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے، اس کے دل میں نرمی اور عاجزی پیدا ہو جاتی ہے۔
---
💎 عملی سبق
1. آخرت کا یقین عبادت کو آسان بناتا ہے
2. دنیا کی مشکلات پر صبر آتا ہے
3. نماز میں خشوع پیدا ہوتا ہے
4. انسان گناہوں سے بچنے لگتا ہے
---
🌸 خلاصہ
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ:
✔ نماز اور صبر انہی لوگوں کے لیے آسان ہیں
✔ جو اللہ سے ملاقات پر یقین رکھتے ہیں
✔ جو آخرت کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتے ہیں
۔۔۔
S2-A46
آپ نے سورۃ البقرہ کی آیت 46 (S2-A46) کا حوالہ دیا ہے۔ میری معلومات اور تلاش کے مطابق، اس آیت کا متن، ترجمہ اور مختصر تشریح درج ذیل ہے:
آیت کا متن:
الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ترجمہ:
"وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف انہیں پلٹ کر جانا ہے۔"
آیت کی مختصر تشریح
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی صفت بیان کی ہے جو صبر اور نماز سے مدد لیتے ہیں۔
1. یقین (یَظُنُّونَ) کا مفہوم: اس آیت میں لفظ "یَظُنُّونَ" استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں اس لفظ کے دو استعمال ہیں: ایک "گمان" اور دوسرا "یقین"۔ یہاں اس سے مراد پختہ یقین اور کامل اعتماد ہے ۔
2. ملاقاتِ الٰہی کا تصور: مُّلَاقُو رَبِّهِمْ یعنی اپنے رب سے ملاقات۔ یہ عقیدہ آخرت کا بنیادی حصہ ہے کہ ایک دن ہم سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور اپنے اعمال کا حساب دیں گے ۔
3. حقیقی کامیابی: مفسرین لکھتے ہیں کہ اللہ سے ملاقات اور اس کی طرف لوٹنے کا یقین ہی انسان کو دنیا کی آزمائشوں میں صبر اور پرہیزگاری عطا کرتا ہے۔ یہ یقین انسان کے لیے معیارِ زندگی طے کرتا ہے، جس سے دنیا کی تمام چیزیں آخرت کے مقابلے میں بہت معمولی نظر آنے لگتی ہیں ۔
اس آیت سے متعلق ایک حدیث بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انسان سے فرمائے گا: "کیا میں نے تجھے شادی نہیں دی؟ کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی؟ کیا میں نے تیرے لیے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کیے؟ اور تجھے سردار بنا کر نہیں چھوڑا؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں (ضرور دیا)۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تجھے یقین تھا کہ تجھے مجھ سے ملنا ہے؟ وہ کہے گا: نہیں۔ اللہ فرمائے گا: آج میں تجھے بھلا دوں گا جیسے تو نے مجھے بھلا دیا تھا۔"
۔۔۔
.jpg)
تبصرے