QURAN S2-A54 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 54
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :70 یعنی اپنے ان آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبود بنایا اور اس کی پرستش کی ۔
AI
---
📖 قرآن - سورۃ البقرہ – آیت 54
عربی متن:
وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُمْ بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُو۟ا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ
(ترجمہ نیچے)
ترجمہ (سہح یا معتبر اردو/انگلش):
“اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بے شک تم نے خود پر ظلم کیا ہے باڑا (گوسالہ) پوجنے کے ذریعے، پس اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو، یہ تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے، پھر تمہاری توبہ قبول ہو گئی؛ بیشک وہ (اللہ) بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔”
---
📘 آیت کا سیاق و معنیٰ (context and meaning)
🔹 اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے ایک تاریخی واقعے کی یاد دہانی کراتا ہے؛ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ قوم نے گوسالہ بنا کر اسے خدا مان لیا۔
🔹 یہ آیت ان کے سنگین گناہ (شرک و گوسالہ پرستی) کی وجہ سے سخت توبہ کی دعوت دیتی ہے۔
🔹 classical mufassireen (جیسے ابن کثیر اور معوذدی) کے مطابق یہاں جو فرمان آیا، وہ قوم کے اندر سے گناہگاروں کو پہچان کر انہیں قتل کرنے (یہ ایک مخصوص تاریخی حکم تھا، نہ ایک عام شریعت) ہے تاکہ قوم کا گناہ ختم ہو اور اللہ کی رضا حاصل ہو۔
🔹 آخر میں اللہ کی رحمت، توبہ قبول کرنے والی صفات بیان کی گئی ہیں۔
---
⚠️ اہم باتیں (Important Points)
📌 یہ آیت علاحدہ زمانے اور واقعے کے بارے میں ہے — یعنی یہ تمام لوگوں کے لیے عمومی حکم نہیں۔
📌 یہاں “قتل” کا مطلب عام خودکشی نہیں بلکہ وہ مخصوص تاریخی عمل تھا کہ جو قوم کی اصلاح کا ذریعہ بنا۔
📌 قرآن ہمیشہ زندگی کی حفاظت اور شرک کی سختی سے منع کرتا ہے۔ عام مسلمان کے لیے خودکشی ہرگز جائز نہیں ہے۔
📌 اللہ تعالی رحمت والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے جو سچے دل سے کی گئی توبہ قبول کرتا ہے۔
---؟
Surat No. 2 Ayat NO. 54
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :70 یعنی اپنے ان آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبود بنایا اور اس کی پرستش کی ۔
.jpg)
تبصرے