QURAN S2-A55 سورہ البقرہ

 







ISLAM360 



📖 قرآن مجید — سورۃ البقرة (آیت 55)


وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرُونَ

“اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم اللہٰ کو آشکار طور پر نہ دیکھ لیں، تو تمہیں کڑک (صاعقہ) نے آ لیا جبکہ تم خود اسے دیکھ رہے تھے۔” 


📌 مختصر مفہوم


یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک واقعے کی یاد دہانی کرتی ہے، جب اللہ نے ان سے فرمایا تھا کہ ایمان لانے کے لیے اللہٰ پر ایمان لاؤ، لیکن وہ ایمان نہ لائے اور شرط رکھی کہ جب تک اللہٰ کو کھل کر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کی اس حالت میں صاعقہ (بجلی/کڑک) کے ذریعے انہیں پکڑا، جبکہ وہ خود اسے دیکھ رہے تھے۔ 


یہ آیت انسان کو ایمان کے حقیقی معنی یعنی غیب پر ایمان لانے اور اللہٰ کی قدرت و روحانیت کو تسلیم کرنے کا درس دیتی ہے — نہ کہ صرف ظاہری شکل و صورت دیکھنے تک ایمان محدود رکھنا۔


۔۔۔؟


تبصرے

Raaj Wellfair Matab

قرشی لیسٹ 1 سے 75 تک

قرشی لیسٹ 76 سے 150 تک