اشاعتیں

QURAN S2-A6 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 6  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :9 یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں ، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، پوری نہ کیں ، اور ان سب کو ، یا ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A5 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360 

QURAN S2-A4 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 4  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :7 یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد ﷺ اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں ۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے ، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں ، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں ، مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں ، رہیں اسی سر چشمے سے نکلی ہوئی دوسری ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیں ۔ ایسے سب لوگوں کو الگ کر کے قرآن اپنا چشمہء فیض صرف ان لوگوں کے لیے کھولتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں ، اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ خدا کی یہ ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے ، اور پ...

QURAN S2-A3 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 3  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :4 یہ قرآن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دوسری شرط ہے ۔ ” غیب “ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہِ راست عام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں ، مثلاً خدا کی ذات و صفات ، ملائکہ ، وحی ، جنّت ، دوزخ وغیرہ ۔ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا اور اس اعتماد پر ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے ، ایمان بالغیب ہے ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ رہا وہ شخص جو ماننے کے لیے دیکھنے اور چکھنے اور سُونگھنے کی شرط لگائے ، اور جو کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا جو ناپی اور تولی نہ جا سکتی ہو تو وہ اس کتاب سے ہدایت نہیں پا سکتا ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :5 یہ تیسری شرط ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ صرف مان کر بیٹھ جانے والے ہوں وہ قرآن سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایمان لانے کے بعد فوراً ہی عملی اطاعت کے لیے آمادہ ہو جائے ۔ اور عملی اطاعت کی اوّلین علامت اور دائمی علامت ...

QURAN S2-A2 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 2  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :2 اس کا ایک سیدھا سادھا مطلب تو یہ ہے کہ ’’ بیشک یہ اللہ کی کتاب ہے ۔ “ مگر ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں شک کی کوئی بات نہیں ہے ۔ دنیا میں جتنی کتابیں امورِ مابعد الطبیعت اور حقائقِ ماوراء ادراک سے بحث کرتی ہیں , وہ سب قیاس و گمان پر مبنی ہیں ، اس لیے خود ان کے مصنّف بھی اپنے بیانات کے بارے میں شک سے پاک نہیں ہو سکتے ، خواہ وہ کتنے ہی یقین کا اظہار کریں ۔ لیکن یہ ایسی کتاب ہے جو سراسر علم حقیقت پر مبنی ہے ، اس کا مصنف وہ ہے جو تمام حقیقتوں کا علم رکھتا ہے ، اس لیے فی الواقع اس میں شک کے لیے کوئی جگہ نہیں ، یہ دوسری بات ہے کہ انسان اپنی نادانی کی بنا پر اس کے بیانات میں شک کریں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :3 یعنی یہ کتاب ہے تو سراسر ہدایت و رہنمائی ، مگر اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی میں چند صفات پائی جاتی ہوں ۔ ان میں سے اوّلین صِفت یہ ہے کہ آدمی ” پرہیزگار “ ہو ۔ بَھلائی اور برائی میں تمیز کرتا ہو ۔ برائی سے بچنا چاہتا ہو ۔ بَھلائی کا طالب ہو اور اس پر عمل کرنے کا خواہش مند ہو ۔ رہے وہ ...

البقرہ QURAN 2-1

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 1  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :1 یہ حُرُوفِ مُقَطعَات قرآن مجید کی بعض سورتوں کے آغاز میں پائے جاتے ہیں ۔ جس زمانے میں قرآن مجید نازل ہوا ہے اس دَور کے اسالیب بیان میں اس طرح کے حُرُوفِ مُقطعات کا استعمال عام طور پر معروف تھا ۔ خطیب اور شعراء دونوں اس اسْلوب سے کام لیتے تھے ۔ چنانچہ اب بھی کلام جاہلیّت کے جو نمونے محفوظ ہیں ، ان میں اس کی مثالیں ہمیں ملتی ہیں ۔ اس استعمال عام کی وجہ سے یہ مُقطعات کوئی چیستاں نہ تھے جس کو بولنے والے کے سوا کوئی نہ سمجھتا ہو ، بلکہ سامعین بالعموم جانتے تھے کہ ان سے مراد کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کے خلاف نبی ﷺ کے ہم عصر مخالفین میں سے کسی نے بھی یہ اعتراض کبھی نہیں کیا کہ یہ بے معنی حروف کیسے ہیں جو تم بعض سورتوں کی ابتدا میں بولتے ہو ۔ اور یہی وجہ ہے کہ صحابہء کرام سے بھی ایسی کوئی روایت منقول نہیں ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے ان کے معنی پوچھے ہوں ۔ بعد میں یہ اسلوب عربی زبان میں متروک ہوتا چلا گیا اور اس بنا پر مفسّرین کے لیے ان کے معانی متعیّن کرنا مشکل ہو گیا ۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ نہ تو ان حروف کا مفہوم سمجھنے پر قرآن سے ہد...

QURAN1-7 (سورہ الفاتحہ)

تصویر
 Surat No. 1 Ayat NO. 7  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :10 یعنی ’’ انعام ‘‘ پانے والوں سے ہماری مراد وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر عارضی طور پر تیری دُنیوی نعمتوں سے سرفراز تو ہوتے ہیں مگر دراصل وہ تیرے غضب کے مستحق ہوا کرتے ہیں اور اپنی فلاح و سعادت کی راہ گم کیے ہوئے ہوتے ہیں ۔ اس سلبی تشریح سے یہ بات خود کھل جاتی ہے کہ ’’ انعام ‘‘ سے ہماری مراد حقیقی اور پائیدار انعامات ہیں جو راست روی اور خدا کی خوشنودی کے نتیجہ میں ملا کرتے ہیں ، نہ کہ وہ عارضی اور نمائشی انعامات جو پہلے بھی فرعونوں اور نمرودوں اور قارونوں کو ملتے رہے ہیں اور آج بھی ہماری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے ظالموں اور بدکاروں اور گمراہوں کو ملے ہوئے ہیں ۔ ISLAM360 

QURAN 1-6(سورہ الفاتحہ)

تصویر
Surat No. 1 Ayat NO. 6  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :9 یہ اس سیدھے راستہ کی تعریف ہے جس کا علم ہم اللہ تعالیٰ سے مانگ رہے ہیں ۔ یعنی وہ راستہ جس پر ہمیشہ سے تیرے منظورِ نظر لوگ چلتے رہے ہیں ۔ وہ بے خطا راستہ کہ قدیم ترین زمانہ سے آج تک جو شخص اور جو گروہ بھی اس پر چلا وہ تیرے انعامات کا مستحق ہوا اور تیری نعمتوں سے مالا مال ہو کر رہا ۔ ISLAM360   

QURAN1-5 (سورہ الفاتحہ)

تصویر
 Surat No. 1 Ayat NO. 5  سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :8 یعنی زندگی کے ہر شعبہ میں خیال اور عمل اور برتاؤ کا وہ طریقہ ہمیں بتا جو بالکل صحیح ہو ، جس میں غلط بینی اور غلط کاری اور بدانجامی کا خطرہ نہ ہو ، جس پر چل کہ ہم سچی فلاح و سعادت حاصل کر سکیں -------- یہ ہے وہ درخواست جو قرآن کا مطالعہ شروع کرتے ہوئے بندہ اپنے خدا کے حضور پیش کرتا ہے ۔ اس کی گزارش یہ ہے کہ آپ ہماری رہنمائی فرمائیں اور ہمیں بتائیں کہ قیاسی فلسفوں کی اس بھول بھلیاں میں حقیقتِ نفس الامری کیا ہے ، اخلاق کے ان مختلف نظریات میں صحیح نظام اخلاق کونسا ہے ، زندگی کی ان بے شمار پگڈنڈیوں کے درمیان فکر و عمل کی سیدھی اور صاف شاہراہ کونسی ہے ۔ ISLAM360 

QURAN1-4 (سورہ الفاتحہ)

تصویر
  Surat No. 1 Ayat NO. 4   سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :6 عبادت کا لفظ بھی عربی زبان میں تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے : ﴿١﴾ پوجا اور پرستش - ﴿2﴾ اطاعت اور فرمانبرداری - ﴿3﴾ بندگی اور غلامی ۔ اس مقام پر تینوں معنی بیک وقت مراد ہیں ۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں ، مطیع فرمان بھی اور بندہ و غلام بھی ۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں ۔ بلکہ واقعی حقیقت یہ ہے کہ ہمارا یہ تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے ۔ ان تینوں معنوں میں سے کسی معنی میں بھی کوئی دوسرا ہمارا معبود نہیں ہے ۔ سورة الْفَاتِحَة حاشیہ نمبر :7 یعنی تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت ہی کا نہیں ہے بلکہ استعانت کا تعلق بھی ہم تیرے ہی ساتھ رکھتے ہیں ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ساری کائنات کا رب تو ہی ہے ، اور ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ، اور ساری نعمتوں کا تو ہی اکیلا مالک ہے ، اس لیے ہم اپنی حاجتوں کی طلب میں تیری طرف ہی رجوع کرتے ہیں ، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے اور تیری مدد ہی پر ہمارا اعتماد ہے ۔ اسی بنا پر ہم اپنی یہ درخواست لے کر تیری خدمت میں حاضر ہو رہے ہیں ۔ ISLAM360