اشاعتیں

QURAN S2-A21 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 21  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :21 اگرچہ قرآن کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام ہے ، مگر اس دعوت سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا لوگوں کی اپنی آمادگی پر اور اس آمادگی کے مطابق اللہ کی توفیق پر منحصر ہے ۔ لہذا پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کر دیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اٹھا سکتے ۔ اس کے بعد اب تمام نوعِ انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے جس کی طرف بلانے کے لیے قرآن آیا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :22 یعنی دنیا میں غلط بینی و غلط کاری سے اور آخرت میں خدا کے عذاب سے بچنے کی توقع ۔ ۔۔۔ ISLAM360 

QURAN S2-A20 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 20  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :19 پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے ۔ اور یہ دوسری مثال ان کی ہے جو شک اور تذبذب اور ضعفِ ایمان میں مبتلا تھے ، کچھ حق کے قائل بھی تھے ، مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو بھی برداشت کر جائیں ۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا ۔ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک سے مراد مشکلات و مصائب کا وہ ہجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریکِ اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلیّت کی شدید مزاحمت کے سبب سے پیش آ رہا تھا ۔ مثال کے آخری حِصّہ میں ان منافقین کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا ہے کہ جب معاملہ ذرا سہل ہوتا ہے تو یہ چل پڑتے ہیں ، اور جب مشکلات کے دَلْ بادَل چھانے لگتے ہیں ، یا ایسے احکام دیے جاتے ہیں جن سے ان کی خواہشاتِ نفس اور ان کے تعصّباتِ جاہلیت پر ضرب پڑتی ہے ، تو ٹھِٹک کر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :20 یعنی جس طرح پہلی قسم کے منافقین کا نور بصارت اس نے بالکل سَلب کر لیا ، اسی طرح اللہ ان کو ب...