اشاعتیں

QURAN S2-A31 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 31  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :42 انسان کے علم کی صُورت دراصل یہی ہے کہ وہ ناموں کے ذریعے سے اشیاء کے علم کو اپنے ذہن کی گرفت میں لاتا ہے ۔ لہذا انسان کی تمام معلومات دراصل اسمائے اشیاء پر مشتمل ہیں ۔ آدم کو سارے نام سکھانا گویا ان کو تمام اشیاء کا عِلم دینا تھا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A30 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 30  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :36 اُوپر کے رکوع میں بندگیِ ربّ کی دعوت اس بنیاد پر دی گئی تھی کہ وہ تمہارا خالق ہے ، پروردگار ہے ، اسی کے قبضہ قدرت میں تمہاری زندگی و موت ہے ، اور جس کائنات میں تم رہتے ہو ، اس کا مالک و مدبّر وہی ہے ، لہذا اس کی بندگی کے سوا تمہارے لیے اور کوئی دوسرا طریقہ صحیح نہیں ہو سکتا ۔ اب اس رکوع میں وہی دعوت اس بنیاد پر دی جا رہی ہے کہ اس دنیا میں تم کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا ہے ، خلیفہ ہونے کی حیثیت سے تمہارا فرض صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ اس کی بندگی کرو ، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی بھیجی ہوئی ہدایت کے مطابق کام کرو ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اپنے ازلی دشمن شیطان کے اشاروں پر چلے ، تو بدترین بغاوت کے مجرم ہو گے اور بدترین انجام دیکھو گے ۔ اس سلسلے میں انسان کی حقیقت اور کائنات میں اس کی حیثیت ٹھیک ٹھیک بیان کر دی گئی ہے اور نوعِ انسانی کی تاریخ کا وہ باب پیش کیا گیا ہے جس کے معلوم ہونے کا کوئی دوسرا ذریعہ انسان کو میسر نہیں ہے ۔ اس باب سے جو اہم نتائج حاصل ہوتے ہیں ، وہ ان نتائج سے بہت زیادہ قیمتی ہیں جو زمین کی تہوں سے متفرق ہڈیاں...

QURAN S2-A29 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 29  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :34 سات آسمانوں کی حقیقت کیا ہے ، اس کا تعیّن مشکل ہے ۔ انسان ہر زمانے میں آسمان ، یا با لفاظِ دیگر ماورائے زمین کے متعلق اپنے مشاہدات یا قیاسات کے مطابق مختلف تصوّرات قائم کرتا رہا ہے ، جو برابر بدلتے رہے ہیں ۔ لہذا ان میں سے کسی تصوّر کو بنیاد قرار دے کر قرآن کے ان الفاظ کا مفہُوم متعین کرنا صحیح نہ ہو گا ۔ بس مجملاً اتنا سمجھ لینا چاہیے کہ یا تو اس سے مراد یہ ہے کہ زمین سے ماوراء جس قدر کائنات ہے ، اسے اللہ نے سات محکم طبقوں میں تقسیم کر رکھا ہے ، یا یہ کہ زمین اس کائنات کے جس حلقہ میں واقع ہے ، وہ سات طبقوں پر مشتمل ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :35 اس فقرے میں دو اہم حقیقتوں پر مُتنبّہ فرمایا گیا ہے ۔ ایک یہ کہ تم اس خدا کے مقابلے میں کفر و بغاوت کا رویّہ اختیار کرنے کی جُراٴت کیسے کرتے ہو جو تمہاری تمام حرکات سے باخبر ہے ، جس سے تمہاری کوئی حرکت چھپی نہیں رہ سکتی ۔ دوسرے یہ کہ جو خدا تمام حقائق کا عِلم رکھتا ہے ، جو درحقیقت علم کا سرچشمہ ہے ، اس سے منہ موڑ کر بجز اس کے کہ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹکو اور کیا نتیجہ...

QURAN S2-A28 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360   

QURAN S2-A27 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 27  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :31 بادشاہ اپنے ملازموں اور رعایا کے نام جو فرمان یا ہدایات جاری کرتا ہے ، ان کو عربی محاورے میں عہد سے تعبیر کیا جاتا ہے ، کیونکہ ان کی تعمیل رعایا پر واجب ہوتی ہے ۔ یہاں عہد کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ اللہ کے عہد سے مراد اس کا وہ مستقل فرمان ہے ، جس کی رُو سے تمام نوعِ انسانی صرف اسی کی بندگی ، اطاعت اور پرستش کرنے پر مامور ہے ۔” مضبُوط باندھ لینے کے بعد “ سے اشارہ اس طرف ہے کہ آدم کی تخلیق کے وقت تمام نوعِ انسانی سے اس فرمان کی پابندی کا اقرار لے لیا گیا تھا ۔  سُورہ اعراف ، آیت 172  میں اس عہد و اقرار پر نسبتًہ زیادہ تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :32 یعنی جن روابط کے قیام اور استحکام پر انسان کی اجتماعی و انفرادی فلاح کا انحصار ہے ، اور جنہیں درست رکھنے کا اللہ نے حکم دیا ہے ، ان پر یہ لوگ تیشہ چلاتے ہیں ۔ اس مختصر سے جملہ میں اس قدر وسعت ہے کہ انسانی تمدّن و اخلاق کی پوری دنیا پر ، جو دو آدمیوں کے تعلق سے لے کر عالمگیر بین الاقوامی تعلّقات تک پھیلی ہوئی ہے ، صرف یہی ای...

QURAN S2-A26 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 26  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :28 یہاں ایک اعتراض کا ذکر کیے بغیر اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ قرآن میں متعدّد مقامات پر توضیح مدّعا کے لیے مکڑی ، مکھّی ، مچھّر وغیرہ کی جو تمثیلیں دی گئی ہیں ، ان پر مخالفین کو اعتراض تھا کہ یہ کیسا کلام الہٰی ہے ، جس میں ایسی حقیر چیزوں کی تمثیلیں ہیں ۔ وہ کہتے تھے کہ اگر یہ خدا کا کلام ہوتا تو اس میں یہ فضولیات نہ ہوتیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :29 یعنی جو لوگ بات کو سمجھنا نہیں چاہتے ، حقیقت کی جستجو ہی نہیں رکھتے ، ان کی نگاہیں تو بس ظاہری الفاظ میں اٹک کر رہ جاتی ہیں اور وہ ان چیزوں سے اُلٹے نتائج نکال کر حق سے اَور زیادہ دُور چلے جاتے ہیں ۔ برعکس اس کے جو خود حقیقت کے طالب ہیں اور صحیح بصیرت رکھتے ہیں ، ان کو اُنہی باتوں میں حکمت کے جوہر نظر آتے ہیں اور ان کا دل گواہی دیتا ہے کہ ایسی حکیمانہ باتیں اللہ ہی کی طرف سے ہو سکتی ہیں ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :30 فاسق : نافرمان ، اطاعت کی حد سے نِکل جانے والا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A25 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 25  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :26 یعنی نِرالے اور اجنبی پَھل نہ ہوں گے ، جن سے وہ نامانوس ہوں ۔ شکل میں اُنہی پَھلوں سے ملتے جُلتے ہوں گے جن سے وہ دنیا میں آشنا تھے ۔ البتہ لذّت میں وہ ان سے بدرجہا زیادہ بڑھے ہوئے ہوں گے ۔ دیکھنے میں مثلاً آم اور انار اور سنترے ہی ہوں گے ۔ اہل جنّت ہر پھل کو دیکھ کر پہچان لیں گے کہ یہ آم ہے اور یہ انار ہے اور یہ سنترا ۔ مگر مزے میں دنیا کے آموں اور اناروں اور سنتروں کو ان سے کوئی نسبت نہ ہو گی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :27 عربی متن میں ازواج کا لفظ استعمال ہوا ہے ، جس کے معنی ہیں ” جوڑے “ ۔ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ شوہر کے لیے بیوی ” زوج “ ہے اور بیوی کے لیے شوہر ” زوج “ ۔ مگر وہاں یہ ازواج پاکیزگی کی صفت کے ساتھ ہوں گے ۔ اگر دنیا میں کوئی مرد نیک ہے اور اس کی بیوی نیک نہیں ہے ، تو آخرت میں ان کا رشتہ کٹ جائے گا اور اس نیک مرد کو کوئی دوسری نیک بیوی دے دی جائے گی ۔ اگر یہاں کوئی عورت نیک ہے اور اس کا شوہر بد ، تو وہاں وہ اس برے شوہر کی صحبت سے خلاصی پا جائے گی اور کوئی نیک مرد اس کا شری...

QURAN S2-A24 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 24  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :25 اس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ وہاں صرف تم ہی دوزخ کا ایندھن نہ بنو گے ، بلکہ تمہارے وہ بُت بھی وہاں تمہارے ساتھ ہی موجود ہوں گے جنہیں تم نے اپنا معبُود و مسجُود بنا رکھا ہے ۔ اس وقت تمہیں خود ہی معلوم ہو جائے گا کہ خدائی میں یہ کتنا دخل رکھتے تھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A23 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 23  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :24 اس سے پہلے مکّے میں کئی بار یہ چیلنج دیا جا چکا تھا کہ اگر تم اس قرآن کو انسان کی تصنیف سمجھتے ہو ، تو اس کے مانند کوئی کلام تصنیف کر کے دکھاؤ ۔ اب مدینے پہنچ کر پھر اس کا اِعادہ کیا جا رہا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو :  سُورہٴ یونس ، آیت 38 و سُورہٴ ہُود ، آیت 13 ۔ بنی اسرائیل ، آیت 88 ۔ الطور ، آیت 33 ۔ 34  )  ISLAM360 

QURAN S2-A22 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 22  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :23 یعنی جب تم خود بھی اس بات کے قائل ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں ، تو پھر تمہاری بندگی اسی کے لیے خاص ہونی چاہیے ، دوسرا کون اس کا حق دار ہو سکتا ہے کہ تم اس کی بندگی بجا لاؤ ؟ دوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ بندگی و عبادت کی مختلف اقسام میں سے کسی قسم کا رویّہ خدا کے سوا دوسروں کے ساتھ برتا جائے ۔ آگے چل کر خود قرآن ہی سے تفصیل کے ساتھ معلوم ہو جائے گا کہ عبادت کی وہ اقسام کون کون سی ہیں جنہیں صِرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور جن میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا وہ ” شرک “ ہے ، جسے روکنے کے لیے قرآن آیا ہے ۔ ISLAM360