اشاعتیں

QURAN S2-A48 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 48  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :63 بنی اسرائیل کے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ آخرت کے متعلق ان کے عقیدے میں خرابی آ گئی تھی ۔ وہ اس قسم کے خیالاتِ خام میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ہم جلیل القدر انبیا کی اولاد ہیں ، بڑے بڑے اَولیا ، صلحا اور زہاد سے نسبت رکھتے ہیں ، ہماری بخشش تو انہیں بزرگوں کے صدقے میں ہو جائے گی ، ان کا دامن گرفتہ ہو کر بھلا کوئی سزا کیسے پا سکتا ہے ۔ اِنہیں جھوٹے بھروسوں نے ان کو دین سے غافل اور گناہوں کے چکّر میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اس لیے نعمت یاد دلانے کے ساتھ فوراً ہی ان کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا گیا ہے ۔ ISLAM360  AI 📖 سورۃ البقرہ — آیت 48 کا اردو ترجمہ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ترجمہ: اور اُس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے بدلے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے گی، نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی، نہ کوئی فدیہ لیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں کہیں سے مدد ملے گی۔  📌 آیت کا مفہوم (تفسیر کا خلاصہ) تقویٰ او...

QURAN S2-A47 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 47  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :62 یہ اس دَور کی طرف اشارہ ہے جب کہ تمام دنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علم حق تھا اور جسے اقوامِ عالم کا امام و رہنما بنا دیا گیا تھا ، تاکہ وہ بندگیِ ربّ کے راستے پر سب قوموں کو بلائے اور چلائے ۔ ISLAM360  ... AI...۔ 📖 آیت (سورۃ البقرة 2:47) — عربی زبان يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ  --- 🔹 ترجمہ (اردو/انگریزی) اردو ترجمہ: اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ بھی یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمام عالم لوگوں پر فضیلت دی۔  English Translation: “O Children of Israel! Remember My favor which I bestowed upon you and that I preferred you over the worlds.”  --- 📌 مختصر مفہوم و پس منظر 🔹 اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی قوم کے لیے بہت سی نعمتیں بچائیں جن میں انبیاء، علم، کتابیں اور رہنمائی شامل ہیں — اور اللہ نے ا...

QURAN S2-A46 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 46  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :61 یعنی جو شخص خدا کا فرماں بردار نہ ہو اور آخرت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو ، اس کے لیے تو نماز کی پابندی ایک ایسی مصیبت ہے ، جسے وہ کبھی گوارا ہی نہیں کر سکتا ۔ مگر جو برضا و رغبت خدا کے آگے سرِ اطاعت خم کر چکا ہو اور جسے یہ خیال ہو کہ کبھی مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا بھی ہے ، اس کے لیے نماز ادا کرنا نہیں ، بلکہ نماز کا چھوڑنا مشکل ہے ۔ ISLAM360  AI... 🌿 آپ کے لنک کے مطابق یہاں Surah Al-Baqarah کی آیت 46 کی تفصیلی وضاحت پیش کی جا رہی ہے۔ --- 📖 آیت (2:46) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُوا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ 📌 ترجمہ: “جو لوگ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور یہ کہ انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔” --- 🔎 سیاق و سباق (Context) یہ آیت اس سے پہلے والی آیت (2:45) سے مربوط ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: > “صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، اور بے شک یہ (نماز) بہت بھاری ہے مگر خشوع کرنے والوں پر نہیں۔” پھر آیت 46 میں بتایا کہ وہ خشوع والے لوگ کون ہیں؟ یعنی وہ لوگ جو آ...

QURAN S2-A45 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 45  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :60 یعنی اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے تو اس دشواری کا علاج صبر اور نماز ہے ، ان دو چیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہو جائے گی ۔ صَبْر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی ، عَزْم کی وہ پختگی اور خواہشاتِ نفس کا وہ اِنضباط ہے ، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلا جائے ۔ ارشاد الہٰی کا مدّعا یہ ہے کہ اس اخلاقی صفت کو اپنے اندر پرورش کرو اور اس کو باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کرو ۔ ISLAM360  ... AI 🌿 📖 سورۃ البقرہ – آیت 45 کی اردو تفسیر سورۃ البقرہ آیت: وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ ترجمہ: “اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو، اور بے شک یہ (کام) بہت بھاری ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جو خشوع رکھنے والے ہیں۔” 🔎 آیت کا پس منظر یہ آیات بنی اسرائیل کو خطاب کرتے ہوئے نازل ہوئیں، لیکن اس میں...

QURAN S2-A44 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI ۔۔۔ آیت: اَتَأْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ ۚ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ترجمہ: کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو، حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو؟ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ --- تفسیر (تشریح): یہ آیت خاص طور پر بنی اسرائیل کے علماء کو مخاطب کر کے نازل ہوئی، لیکن اس کا حکم عام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو تنبیہ فرما رہے ہیں جو دوسروں کو نیکی کی تلقین کرتے ہیں مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے۔ 1️⃣ نیکی کی دعوت اور خود عمل نہ کرنا دوسروں کو اچھے کاموں کی ترغیب دینا بہت بڑی نیکی ہے، لیکن اگر انسان خود اس پر عمل نہ کرے تو یہ سخت مذمت کا باعث بنتا ہے۔ یہ رویہ منافقت کے قریب ہے۔ 2️⃣ علم کی ذمہ داری آیت میں "تم کتاب پڑھتے ہو" کہہ کر بتایا گیا کہ علم رکھنے والوں کی ذمہ داری زیادہ ہے۔ عالم، خطیب اور داعی اگر اپنے علم پر عمل نہ کریں تو ان کا جرم عام آدمی سے زیادہ ہے۔ 3️⃣ عقل سے کام لینا "اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ" میں جھنجھوڑنے والا انداز ہے — یعنی کیا تم سوچتے نہیں کہ قول و فعل کا تضاد کتنا بڑا ...

QURAN S2-A43 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 43  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :59 نماز اور زکوۃ ہر زمانے میں دین اسلام کے اہم ترین ارکان رہے ہیں ۔ تمام انبیا کی طرح انبیائے بنی اسرائیل نے بھی اس کی سخت تاکید کی تھی ۔ مگر یہودی ان سے غافل ہو چکے تھے ۔ نماز باجماعت کا نظام ان کے ہاں تقریباً بالکل درہم برہم ہو چکا تھا ۔ قوم کی اکثریت انفرادی نماز کی بھی تارک ہو چکی تھی ، اور زکوۃ دینے کے بجائے یہ لوگ سود کھانے لگے تھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A42 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 42  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :58 اس آیت کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اہل عرب بالعموم ناخواندہ لوگ تھے اور ان کے مقابلے میں یہودیوں کے اندر ویسے بھی تعلیم کا چرچا زیادہ تھا ، اور انفرادی طور پر ان میں ایسے ایسے جلیل القدر عالم پائے جاتے تھے جن کی شہرت عرب کے باہر تک پہنچی ہوئی تھی ۔ اس وجہ سے عربوں پر یہودیوں کا علمی رعب بہت زیادہ تھا ۔ پھر ان کے علما اور مشائخ نے اپنے مذہبی درباروں کی ظاہری شان جما کر اور اپنی جھاڑ پھونک اور تعویذ گنڈوں کا کاروبار چلا کر اس رعب کو اور بھی زیادہ گہرا اور وسیع کر دیا تھا ۔ خصوصیت کے ساتھ اہل مدینہ ان سے بے حد مرعوب تھے ، کیونکہ ان کے آس پاس بڑے بڑے یہودی قبائل آباد تھے ، رات دن کا ان سے میل جول تھا ، اور اس میل جول میں وہ ان سے اسی طرح شدت کے ساتھ متاثر تھے جس طرح ایک اَن پڑھ آبادی زیادہ تعلیم یافتہ ، زیادہ متمدّن اور زیادہ نمایاں مذہبی تشخّص رکھنے والے ہمسایوں سے متاثر ہوا کرتی ہے ۔ ان حالات میں جب نبی ﷺ نے اپنے آپ کو نبی کی حیثیت سے پیش کیا اور لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دینی شروع کی ، تو قدرتی بات تھ...

QURAN S2-A41 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 41  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :57 تھوڑی قیمت سے مراد وہ دنیوی فائدے ہیں جن کی خاطر یہ لوگ اللہ کے احکام اور اس کی ہدایات کو رد کر رہے تھے ۔ حق فروشی کے معاوضے میں خواہ انسان دنیا بھر کی دولت لے لے ، بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے ، کیونکہ حق یقیناً اس سے گراں تر چیز ہے ۔ ISLAM360  AI قرآن کی اس آیت (البقرہ: 41) کی تفسیر میں کئی اہم نکات بیان کیے گئے ہیں: قرآن پر ایمان لانے کا حکم: اس آیت میں بنی اسرائیل کو خاص طور پر حکم دیا جا رہا ہے کہ وہ قرآن پر ایمان لائیں جو ان کی اپنی کتابوں، جیسے تورات، کی تصدیق کرتا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن پچھلی آسمانی کتابوں کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔ سب سے پہلے انکار کرنے والے نہ بنو: انہیں تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اس کتاب کا انکار کرنے والوں میں پہل نہ کریں، کیونکہ وہ پہلے سے ہی آخری نبی ﷺ کے منتظر تھے۔ ان کا انکار دوسروں کے لیے مثال بن سکتا تھا، جس کا گناہ بھی ان پر ہوتا۔ دنیاوی فائدے کے لیے آیات نہ بیچو: اس میں علماء کو سختی سے منع کیا گیا ہے کہ وہ معمولی دنیاوی فائدے، جیسے عہدے یا مال، کے لیے اللہ کی آیات کو نہ چھپائی...

QURAN S2-A40 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 40  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :56 اسرائیل کے معنی ہیں عبداللہ یا بندہء خدا ۔ یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب تھا ، جو ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوا تھا ۔ وہ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے ۔ انہی کی نسل کو بنی اسرائیل کہتے ہیں ۔ پچھلے چار رکوعوں میں تمہیدی تقریر تھی ، جس کا خطاب تمام انسانوں کی طرف عام تھا ۔ اب یہاں سے چودھویں رکوع تک مسلسل ایک تقریر اس قوم کو خطاب کرتے ہوئے چلتی ہے ، جس میں کہیں کہیں عیسائیوں اور مشرکینِ عرب کی طرف بھی کلام کا رخ پھر گیا ہے اور موقع موقع سے ان لوگوں کو بھی خطاب کیا گیا ہے جو حضرت محمد ﷺ کی دعوت پر ایمان لائے تھے ۔ اس تقریر کو پڑھتے ہوئے حسبِ ذیل باتوں کو خاص طَور پر پیشِ نظر رکھنا چاہیے : اوّلاً ، اس کا منشا یہ ہے کہ پچھلے پیغمبروں کی اُمت میں جو تھوڑے بہت لوگ ابھی ایسے باقی ہیں جن میں خیر و صلاح کا عنصر موجود ہے ، انہیں اس صداقت پر ایمان لانے اور اس کام میں شریک ہونے کی دعوت دی جائے جس کے ساتھ محمد ﷺ اٹھائے گئے تھے ۔ اس لیے ان کو بتایا جا رہا ہے کہ یہ قرآن اور یہ نبی وہی ...

QURAN S2-A39 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 39  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :54 آیات جمع ہے آیت کی ۔ آیت کے اصل معنی اس نشانی یا علامت کے ہیں جو کسی چیز کی طرف رہنمائی کرے ۔ قرآن میں یہ لفظ چار مختلف معنوں میں آیا ہے ۔ کہیں اس سے مراد محض علامت یا نشانی ہی ہے ۔ کہیں آثارِ کائنات کو اللہ کی آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ مظاہرِ قدرت میں سے ہر چیز اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو اس ظاہری پردے کے پیچھے مستور ہے ۔ کہیں ان معجزات کو آیات کہا گیا ہے جو انبیاء علیہم السّلام لے کر آتے تھے ، کیونکہ یہ معجزے دراصل اس بات کی علامت ہوتے تھے کہ یہ لوگ فرمانروائے کائنات کے نمائندے ہیں ۔ کہیں کتاب اللہ کے فقروں کو آیات کہا گیا ہے ، کیونکہ وہ نہ صرف حق اور صداقت کی طرف رہنمائی کرتے ہیں ، بلکہ فی الحقیقت اللہ کی طرف سے جو کتاب بھی آتی ہے ، اس کے محض مضامین ہی میں نہیں ، اس کے الفاظ اور اندازِ بیان اور طرزِ عبادت تک میں اس کے جلیل القدر مصنّف کی شخصیت کے آثار نمایاں طور پر محسوس ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ ہر جگہ عبارت کے سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں ’’ آیت “ کا لفظ کس معنی میں آیا ہے ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر ...