QURAN S2-A57 سورہ البقرہ
Surat No. 2 Ayat NO. 57
سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :72 یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی ، ہم نے ابر سے تمہارے بچاؤ کا انتظام کیا ۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر ، سر چھپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے ۔ اس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو اَبر آلود نہ رکھا جاتا ، تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہو جاتی ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :73 مَنّ و سَلْویٰ وہ قدرتی غذائیں تھیں ، جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں ۔ مَنّ دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی ، جو اوس کی طرح گرتی اور زمین پر جم جاتی تھی ۔ اور سَلْویٰ بٹیر کی قسم کے پرندے تھے ۔ خدا کے فضل سے ان کی اتنی کثرت تھی کہ ایک پوری کی پوری قوم محض انہی غذاؤں پر زندگی بسر کرتی رہی اور اسے فاقہ کشی کی مصیبت نہ اٹھانی پڑی ، حالانکہ آج کسی نہایت متمدّن ملک میں بھی اگر چند لاکھ مہاجر یکایک آ پڑیں ، تو ان کی خوراک کا انتظام مشکل ہو جاتا ہے ۔ ( مَنّ اور سَلْویٰ کی تفصیلی کیفیّت کے لیے ملاحظہ ہو : بائیبل ، کتاب خروج ، باب 16 - گنتی ، باب 11 ، آیت 9-7 و 32-31 و یشوع ، باب 5- آیت 12 )
ISLAM360
AI..
.jpg)
تبصرے