اشاعتیں

QURAN S2-A13 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 13  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :13 یعنی جس طرح تمہاری قوم کے دوسرے لوگ سچائی اور خلوص کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی اگر اسلام قبول کرتے ہو تو ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے قبول کرو ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :14 وہ اپنے نزدیک ان لوگوں کو بے وقوف سمجھتے تھے جو سچائی کے ساتھ اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقّتوں اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے ۔ ان کی رائے میں یہ سراسر احمقانہ فعل تھا کہ محض حق اور راستی کی خاطر تمام ملک کی دشمنی مول لے لی جائے ۔ ان کے خیال میں عقل مندی یہ تھی کہ آدمی حق اور باطل کی بحث میں نہ پڑے ، بلکہ ہر معاملے میں صرف اپنے مفاد کو دیکھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A12 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A11 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A10 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 10  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :12 بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے ۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں ۔  ISLAM360 

QURAN S2-A9 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 9  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :11 یعنی وہ اپنے آپ کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر رہے ہیں کہ ان کی یہ منافقانہ روش ان کے لیے مفید ہو گی ، حالانکہ دراصل یہ ان کو دنیا میں بھی نقصان پہنچائے گی اور آخرت میں بھی ۔ دنیا میں ایک منافق چند روز کے لیے تو لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر ہمیشہ اس کا دھوکا نہیں چل سکتا ۔ آخرکار اس کی منافقت کا راز فاش ہو کر رہتا ہے ۔ اور پھر معاشرے میں اس کی کوئی ساکھ باقی نہیں رہتی ۔ رہی آخرت ، تو وہاں ایمان کا زبانی دعویٰ کوئی قیمت نہیں رکھتا اگر عمل اس کے خلاف ہو ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A8 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A7 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 7  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :10 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ  نے مہر لگا دی تھی ، اس لیے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا ، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے ان بنیادی امور کو رد کر دیا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے ، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ پسند کر لیا ، تو اللہ نے ان کے دِلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ۔ اس مہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اس شخص کو ہو گا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو ۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کر دیتا ہے ، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی ، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے ، اور آپ کے طریقے کی خوبیوں کے لیے اس کی آنکھیں اندھی ہو جاتی ہیں ، اور صریح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ فی الواقع اس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A6 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 6  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :9 یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں ، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے ، پوری نہ کیں ، اور ان سب کو ، یا ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A5 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360 

QURAN S2-A4 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 4  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :7 یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد ﷺ اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں ۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے ، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں ، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں ، مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں ، رہیں اسی سر چشمے سے نکلی ہوئی دوسری ہدایات تو وہ ان کو قبول کرنے سے انکار کر دیں ۔ ایسے سب لوگوں کو الگ کر کے قرآن اپنا چشمہء فیض صرف ان لوگوں کے لیے کھولتا ہے جو اپنے آپ کو خدائی ہدایت کا محتاج بھی مانتے ہوں ، اور یہ بھی تسلیم کرتے ہوں کہ خدا کی یہ ہدایت ہر انسان کے پاس الگ الگ نہیں آتی بلکہ انبیاء اور کتب آسمانی کے ذریعے سے ہی خلق تک پہنچتی ہے ، اور پ...