اشاعتیں

QURAN S2-A19 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 19  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :18 یعنی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر وہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لیے اس غلط فہمی میں تو ڈال سکتے ہیں کہ ہلاکت سے بچ جائیں گے مگر فی الواقع اس طرح وہ بچ نہیں سکتے ، کیونکہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان پر محیط ہے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A18 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 18  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :17 حق بات سننے کے لیے بہرے ، حق گوئی کے لیے گونگے ، حق بینی کے لیے اندھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A17 سورہ البقرہ

تصویر
 Surat No. 2 Ayat NO. 17  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :16 مطلب یہ ہے کہ جب ایک اللہ کے بندے نے روشنی پھیلائی اور حق کو باطل سے ، صحیح کو غلط سے ، راہِ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کر دیا ، تو جو لوگ دیدہء بینا رکھتے تھے ، ان پر تو ساری حقیقتیں روشن ہو گئیں ، مگر یہ منافق ، جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے ، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا ۔” اللہ نے نور بصارت سلب کر لیا “ کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کے تاریکی میں بھٹکنے کی ذمہ داری خود ان پر نہیں ہے ۔ اللہ نور بصارت اسی کا سلب کرتا ہے جو خود حق کا طالب نہیں ہوتا ، خود ہدایت کے بجائے گمراہی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے ، خود صداقت کا روشن چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا ۔ جب انہوں نے نور حق سے منہ پھیر کر ظلمتِ باطل ہی میں بھٹکنا چاہا تو اللہ نے انہیں اسی کی توفیق عطا فرما دی ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A16 سورہ البقرہ

تصویر
ISLAM360 

QURAN S2-A15 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360 

QURAN S2-A14 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 14  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :15 شیطان عربی زبان میں سرکش ، متمرّد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں ۔ انسان اور جِنّ دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے ۔ اگرچہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جِنّ کے لیے آیا ہے ، لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے اور سیاق و سباق سے بآسانی معلوم ہو جاتا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مراد ہیں اور کہاں جِنّ ۔ اس مقام پر شیاطین کا لفظ ان بڑے بڑے سرداروں کے لیے استعمال ہوا ہے جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A13 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 13  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :13 یعنی جس طرح تمہاری قوم کے دوسرے لوگ سچائی اور خلوص کے ساتھ مسلمان ہوئے ہیں اسی طرح تم بھی اگر اسلام قبول کرتے ہو تو ایمانداری کے ساتھ سچے دل سے قبول کرو ۔ سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :14 وہ اپنے نزدیک ان لوگوں کو بے وقوف سمجھتے تھے جو سچائی کے ساتھ اسلام قبول کر کے اپنے آپ کو تکلیفوں اور مشقّتوں اور خطرات میں مبتلا کر رہے تھے ۔ ان کی رائے میں یہ سراسر احمقانہ فعل تھا کہ محض حق اور راستی کی خاطر تمام ملک کی دشمنی مول لے لی جائے ۔ ان کے خیال میں عقل مندی یہ تھی کہ آدمی حق اور باطل کی بحث میں نہ پڑے ، بلکہ ہر معاملے میں صرف اپنے مفاد کو دیکھے ۔ ISLAM360 

QURAN S2-A12 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A11 سورہ البقرہ

تصویر
 

QURAN S2-A10 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 10  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :12 بیماری سے مراد منافقت کی بیماری ہے ۔ اور اللہ کے اس بیماری میں اضافہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ منافقین کو ان کے نفاق کی سزا فوراً نہیں دیتا بلکہ انہیں ڈھیل دیتا ہے اور اس ڈھیل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ منافق لوگ اپنی چالوں کو بظاہر کامیاب ہوتے دیکھ کر اور زیادہ مکمل منافق بنتے چلے جاتے ہیں ۔  ISLAM360