AI Health Tibb Unani اروی Colocasia esculenta کے طبی فوائد استعمال اور پرھیز
اروی Colocasia esculenta
کے طبی فوائد استعمال اور پرھیز
### اروی (Taro / Colocasia esculenta) - طبی فوائد، استعمال اور پرہیز
اروی ایک مشہور اور عام سبزی ہے جو برصغیر پاک و ہند سمیت دنیا کے کئی خطوں میں شوق سے کھائی جاتی ہے۔ اس کے پتے اور جڑیں (گندل یا اروی) دونوں ہی غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں اور طبِ روایتی میں اس کے کئی طبی فوائد بیان کیے گئے ہیں۔
### طبی فوائد
* **نظامِ ہضم کی بہتری:** اروی میں فائبر (Fiber) کی وافر مقدار پائی جاتی ہے جو معدے کے نظام کو درست رکھتی ہے، قبض کا خاتمہ کرتی ہے اور آنتوں کی صحت کو بہتر بناتی ہے۔
* **قوتِ مدافعت میں اضافہ:** اس میں موجود وٹامن سی، وٹامن اے اور دیگر اینٹی آکسیڈنٹس جسم کی مدافعت کو مضبوط بناتے ہیں اور خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں۔
* **دل کی صحت کے لیے مفید:** اروی میں پوٹاشیم اور میگنیشیم پایا جاتا ہے جو بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے اور شریانوں کے تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
* **شوگر (ذیابیطس) کے مریضوں کے لیے معاون:** اس کا گلائسیمک انڈیکس (Glycemic Index) کم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے یہ خون میں شوگر کی سطح کو تیزی سے بلند نہیں کرتی۔ اس کے علاوہ اس میں موجود فائبر انسولین کی حساسیت کو بہتر بناتا ہے۔
* **وزن کا کنٹرول:** فائبر سے بھرپور ہونے کی وجہ سے اروی کھانے کے بعد طویل عرصے تک پیٹ بھرے ہونے کا احساس دلاتی ہے، جو وزن کم کرنے یا قابو میں رکھنے کے خواہشمند افراد کے لیے مفید ہے۔
* **ہڈیوں کی مضبوطی:** اروی میں کیلشیم، فاسفورس اور میگنیشیم پائے جاتے ہیں جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
### استعمال کا طریقہ
* **بطور سالن:** اروی کو عام طور پر چھیل کر گوشت، دالوں یا شوربے کے ساتھ پکایا جاتا ہے۔ اس کا سالن انتہائی لذیذ اور طاقتور ہوتا ہے۔
* **ابال کر استعمال:** اروی کو ابال کر اس کا چھلکا اتار لیں اور نمک، کالی مرچ یا چاٹ مصالحہ لگا کر بطورِ غذا استعمال کیا جاتا ہے۔
* **پتوں کا استعمال:** اروی کے پتوں کے پکوڑے (پترے) یا سالن بھی برصغیر میں بہت شوق سے بنایا جاتا ہے۔
> **طبی مشورہ:** اروی پکاتے وقت اس میں اجوائن، ہینگ، ادرک اور لیموں کا استعمال لازمی کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اشیاء اروی کی بادی (گیس پیدا کرنے کی صلاحیت) کو ختم کرتی ہیں۔
>
### احتیاط اور پرہیز
* **گیس اور بادی پن:** اروی میں بادی اثرات ہوتے ہیں، لہذا جو لوگ جوڑوں کے درد (گٹھیا)، گیس یا بدہضمی کا شکار ہوں، انہیں اروی کا استعمال کم کرنا چاہیے یا مرچ مصالحے اور اجوائن کے ساتھ پکانا چاہیے۔
* **گردے کی پتھری:** اروی میں آکسیلیٹس (Oxalates) پائے جاتے ہیں، لہذا جن افراد کو گردے میں پتھری (کیلسشیم آکسیلیٹ کی پتھری) کا مسئلہ ہو، وہ ڈاکٹر یا معالج کے مشورے کے بغیر اس کا استعمال نہ کریں۔
* **کچی یا نیم پکی اروی:** اروی کو کبھی بھی کچا یا کم پکا ہوا استعمال نہ کریں کیونکہ اس میں کیلشیم آکسیلیٹ کے کرسٹلز ہوتے ہیں جو گلے میں خراش، جلن اور منہ میں سوجن کا سبب بن سکتے ہیں۔ ہمیشہ اروی کو اچھی طرح ابال کر
یا گلا کر پکائیں۔
۔۔۔


تبصرے