اشاعتیں

QURAN S2-A56 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 56  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :71 یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر جب حضرت موسیٰ علیہ السلام طور پر تشریف لے گئے تھے ، تو آپ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو کتاب اور فرقان عطا کی ، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا ۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور انہیں سزا دی گئی ۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ : ” انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا اس کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبوترا سا تھا ، جو آسمان کی مانند شفاف تھا ۔ اور اس نے بنی اسرائیل کے شرفا پر اپنا ہاتھ نہ بڑھایا ۔ سو انہوں نے خدا کو دیکھا اور کھایا اور پیا ۔“ ( خرُوج ، باب 24 ، آیت 11-10 ) لطْف یہ ہے کہ اسی کتاب میں آگے چل کر لکھا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا سے عرض کیا کہ مجھے اپنا جلال دکھا دے ، تو اس نے فرمایا کہ تو مجھے نہیں دیکھ سکت...

QURAN S2-A55 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  📖 قرآن مجید — سورۃ البقرة (آیت 55) وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُم تَنظُرُونَ ✨ “اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم اللہٰ کو آشکار طور پر نہ دیکھ لیں، تو تمہیں کڑک (صاعقہ) نے آ لیا جبکہ تم خود اسے دیکھ رہے تھے۔”  📌 مختصر مفہوم یہ آیت بنی اسرائیل کے ایک واقعے کی یاد دہانی کرتی ہے، جب اللہ نے ان سے فرمایا تھا کہ ایمان لانے کے لیے اللہٰ پر ایمان لاؤ، لیکن وہ ایمان نہ لائے اور شرط رکھی کہ جب تک اللہٰ کو کھل کر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ نے ان کی اس حالت میں صاعقہ (بجلی/کڑک) کے ذریعے انہیں پکڑا، جبکہ وہ خود اسے دیکھ رہے تھے۔  یہ آیت انسان کو ایمان کے حقیقی معنی یعنی غیب پر ایمان لانے اور اللہٰ کی قدرت و روحانیت کو تسلیم کرنے کا درس دیتی ہے — نہ کہ صرف ظاہری شکل و صورت دیکھنے تک ایمان محدود رکھنا۔ ۔۔۔؟

QURAN S2-A54 سورہ البقرہ

تصویر
Surat No. 2 Ayat NO. 54  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :70 یعنی اپنے ان آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبود بنایا اور اس کی پرستش کی ۔ AI --- 📖 قرآن - سورۃ البقرہ – آیت 54 عربی متن: وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِۦ يَـٰقَوْمِ إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنفُسَكُمْ بِٱتِّخَاذِكُمُ ٱلْعِجْلَ فَتُوبُوا۟ إِلَىٰ بَارِئِكُمْ فَٱقْتُلُو۟ا۟ أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلتَّوَّابُ ٱلرَّحِيمُ‎ (ترجمہ نیچے)  ترجمہ (سہح یا معتبر اردو/انگلش): “اور جب موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: اے میری قوم! بے شک تم نے خود پر ظلم کیا ہے باڑا (گوسالہ) پوجنے کے ذریعے، پس اپنے خالق کی طرف توبہ کرو اور اپنے آپ کو قتل کرو، یہ تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے، پھر تمہاری توبہ قبول ہو گئی؛ بیشک وہ (اللہ) بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔”  --- 📘 آیت کا سیاق و معنیٰ (context and meaning) 🔹 اس آیت میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کے ایک تاریخی واقعے کی یاد دہانی کراتا ہے؛ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام تورات لے کر واپس آئے تو انہوں نے دیکھا ک...

QURAN S2-A53 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 53  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :69 فُرقَان: وہ چیز جس کے ذریعہ سے حق اور باطل کا فرق نمایاں ہو ۔ اردو میں اس کے مفہوم سے قریب تر لفظ ” کَسوَٹی “ ہے ۔ یہاں فرقان سے مراد دین کا وہ علم اور فہم ہے ، جس سے آدمی حق اور باطل میں تمیز کرتا ہے ۔ ISLAM360  Ai۔۔؟ 📖 آیت (عربی + ترجمہ) وَإِذْ آتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور الفرقان (وہ جس سے حق و باطل میں فرق ہوتا ہے) دیا تاکہ تم ہدایت پاؤ۔  📘 معنی و مفہوم 📌 الفرقان: قرآنِ مجید اور اس کے الفاظ میں فرقان کے معنی ہیں وہ چیز جو حق و باطل میں تمیز کرے — یعنی وہ علمی ہدایت جو انسان کو سچائی اور غلطی میں فرق سکھائے۔  📌 ہدایت کا مقصد: اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب (تورات) اور فرقان لوگوں کو دی تاکہ ان کے اعمال میں ہدایت آئے، یعنی وہ سچے راستے پر چلیں اور فلاح پائیں۔  📌 تفسیر میں حوالہ: تفسیریں بیان کرتی ہیں کہ اللہ نے بنی‌اسرائیل کو تورات عطا کی تاکہ وہ آگہی حاصل کر کے راہِ ہدایت پر آئیں۔  ۔۔؟

QURAN S2-A52 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI... 📖 سورہ البقرہ – آیت 52 (2:52) عربی: ثُمَّ عَفَوۡنَا عَنكُم مِّنۢ بَعۡدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمۡ تَشۡكُرُو۟نَ ۚ  اردو ترجمہ: پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔  English Translation (Meaning): “Then We forgave you after that so perhaps you would be grateful.”  📌 وضاحت (مختصر مفہوم): یہ آیت بنی اسرائیل کی طرف اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے، جب انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر موجودگی میں گوسالے کی پوجا شروع کر دی تھی، پھر جب انہوں نے توبہ کی تو اللہ نے اپنے فضل و رحم سے انہیں بخش دیا، تاکہ وہ اس احسان پر شکر گزار بنیں۔  ۔۔؟ وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌿 📖 تفسیر سورۃ البقرہ – آیت 52 آیت: ثُمَّ عَفَوْنَا عَنكُم مِّن بَعْدِ ذَٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ترجمہ: پھر اس کے بعد بھی ہم نے تمہیں معاف کر دیا تاکہ تم شکر کرو۔ --- 🔎 پس منظر (شانِ نزول) یہ آیت قرآن مجید کی سورۃ البقرہ میں بنی اسرائیل کے واقعات کے ضمن میں نازل ہوئی۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے گئے تو ان کی غیر موجودگی میں...

QURAN S2-A51 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 51  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :67 مصر سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے ، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لئے کوہِ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے ، جو اب آزاد ہو چکی تھی ، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں ۔ ( ملاحظہ ہو بائیبل ، کتابِ خروج ، باب 24 تا 31  ) سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :68 گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا ۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے من جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے حکمرانوں سے لے لیا تھا ۔ ( بچھڑے کی پرستش کا یہ واقعہ بائیبل کتابِ خروج ، باب 32  میں تفصیل کے ساتھ درج ہے ) ۔ ISLAM360  AI ..؟ 📖 سورۃ البقرہ — آیت 51 کا ترجمہ وَإِذْ وَعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ثُمَّ ٱتَّخَذْتُمُ ٱلْعِجْلَ مِنۢ بَعْدِهِۦ وَأَنتُمْ ظَـٰلِمُونَ 📘 اور جب ہم نے موسیٰ...

QURAN S2-A50 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI 📖 سورۃ البقرہ – آیت 50 کی تفسیر آیت: وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ترجمہ: “اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑ دیا، پھر تمہیں نجات دی اور فرعون والوں کو تمہارے دیکھتے دیکھتے غرق کر دیا۔” --- 🔎 شانِ نزول اور پس منظر یہ آیت بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت یاد دلاتی ہے۔ جب وہ مصر میں فرعون کے ظلم و ستم کا شکار تھے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے انہیں نجات عطا فرمائی۔ جب بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ان کے پیچھے آیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں راستہ بن گیا اور بنی اسرائیل سلامتی سے گزر گئے، لیکن جب فرعون اور اس کا لشکر داخل ہوا تو پانی واپس آ گیا اور وہ سب غرق ہو گئے۔ --- ✨ اہم نکاتِ تفسیر 1️⃣ “فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ” اللہ تعالیٰ نے سمندر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ مفسرین کے مطابق پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہو گیا تھا اور درمیان میں خشک راستہ بن گیا۔ 2️⃣ “فَأَنْجَيْنَاكُمْ” یہ اللہ کی خاص نصرت اور مدد تھی۔ کمز...

QURAN S2-A49 سورہ البقرہ

تصویر
  ISLAM360  AI... 📖 قرآن 2:49 – اصل آیت (عربی اور انگریزی ترجمہ) عربی: وَإِذْ نَجَّيْنَـٰكُم مِّنْ ءَالِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ ٱلْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِى ذَٰلِكُم بَلَآءٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌۭ انگریزی ترجمہ (The Clear Quran): “Remember how We delivered you from the people of Pharaoh, who afflicted you with dreadful torment, slaughtering your sons and keeping your women. That was a severe test from your Lord.”  --- 📌 آیت کا مفہوم (اس کی تشریح) یہ آیت بچوں، فارس میں بنی اسرائیل کی نجات کا ذکر کرتی ہے: 🔹 اللہ تعالیٰ فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل پر بہت ظلم ڈھایا۔ 🔹 وہ ان کے نئے پیدا ہونے والے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ 🔹 اللہ تعالیٰ نے انہیں اس ظلم و ستم سے نجات دی۔ 🔹 اسی پورے واقعہ میں ایک بڑی آزمائش (بلاء) تھی — ایک طرف سخت دکھ و تکلیف، اور دوسری طرف اللہ کی بڑی نعمت اور رحمت۔  --- 🧠 تشریح کی مختصر وضاحت شیخ التفاسیر نے فرمایا ہے کہ: 📍 “بلاء” کا مفہوم نہ صرف سخت ...

QURAN S2-A48 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 48  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :63 بنی اسرائیل کے بگاڑ کی ایک بہت بڑی وجہ یہ تھی کہ آخرت کے متعلق ان کے عقیدے میں خرابی آ گئی تھی ۔ وہ اس قسم کے خیالاتِ خام میں مبتلا ہو گئے تھے کہ ہم جلیل القدر انبیا کی اولاد ہیں ، بڑے بڑے اَولیا ، صلحا اور زہاد سے نسبت رکھتے ہیں ، ہماری بخشش تو انہیں بزرگوں کے صدقے میں ہو جائے گی ، ان کا دامن گرفتہ ہو کر بھلا کوئی سزا کیسے پا سکتا ہے ۔ اِنہیں جھوٹے بھروسوں نے ان کو دین سے غافل اور گناہوں کے چکّر میں مبتلا کر دیا تھا ۔ اس لیے نعمت یاد دلانے کے ساتھ فوراً ہی ان کی ان غلط فہمیوں کو دور کیا گیا ہے ۔ ISLAM360  AI 📖 سورۃ البقرہ — آیت 48 کا اردو ترجمہ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ترجمہ: اور اُس دن سے ڈرو جس دن کوئی جان کسی دوسری جان کے بدلے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے گی، نہ کسی کی سفارش قبول کی جائے گی، نہ کوئی فدیہ لیا جائے گا، اور نہ ہی انہیں کہیں سے مدد ملے گی۔  📌 آیت کا مفہوم (تفسیر کا خلاصہ) تقویٰ او...

QURAN S2-A47 سورہ البقرہ

تصویر
  Surat No. 2 Ayat NO. 47  سورة الْبَقَرَة حاشیہ نمبر :62 یہ اس دَور کی طرف اشارہ ہے جب کہ تمام دنیا کی قوموں میں ایک بنی اسرائیل کی قوم ہی ایسی تھی جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا علم حق تھا اور جسے اقوامِ عالم کا امام و رہنما بنا دیا گیا تھا ، تاکہ وہ بندگیِ ربّ کے راستے پر سب قوموں کو بلائے اور چلائے ۔ ISLAM360  ... AI...۔ 📖 آیت (سورۃ البقرة 2:47) — عربی زبان يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِي أَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَأَنِّي فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ  --- 🔹 ترجمہ (اردو/انگریزی) اردو ترجمہ: اے بنی اسرائیل! میری وہ نعمت یاد کرو جو میں نے تم پر کی اور یہ بھی یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمام عالم لوگوں پر فضیلت دی۔  English Translation: “O Children of Israel! Remember My favor which I bestowed upon you and that I preferred you over the worlds.”  --- 📌 مختصر مفہوم و پس منظر 🔹 اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یاد دہانی کرا رہے ہیں کہ کس طرح انہوں نے اپنی قوم کے لیے بہت سی نعمتیں بچائیں جن میں انبیاء، علم، کتابیں اور رہنمائی شامل ہیں — اور اللہ نے ا...